ہمارے مضامین
غیروں کی نقالی... ہمارا قومی المیہ
✍️ مصنف: مدیر اعلیٰ کے قلم سے...
🏷️ زمرہ: اداریہ
👁️ 4 ویوز
اقوام عالم کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والا اچھی طرح جانتا ہے کہ قوموں کے مزاج یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ کوئی نرم مزاج ہے، تو کوئی گرم مزاج... کوئی تنگ دل ہے، تو کوئی وسیع الظرف... اسی طرح کوئی آزاد ذہن ہے، تو کوئی ٹاوٹ ذہنیت کا حامل... کوئی احساس برتری لیے ہوئے ہے، تو کوئی احساس کمتری کا شکار۔ قوموں کی آزادی اور غلامی کا بہترین اور برحق فیصلہ ان کے مزاج کو دیکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ آزاد قومیں ہر چیز میں دوسری قوموں سے آزاد ہوتی ہیں۔ سیاست میں... معیشت میں... اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں... آئین و دستور سازی میں... اور ایسی قومیں کسی امپورٹڈ چیز کو اپنے کلچر میں شامل نہیں دیتیں۔ بلکہ وہ اسے گھٹیاپن اور ذلت تصور کرتی ہیں۔دوسری جانب غلام قوموں کا حال بالکل ناقابلِ بیان ہوتا ہے۔ وہ بالکل لنگڑی اور اپاہج ہوتی ہیں... مادر زاد اندھوں کی طرح انہیں ایک قدم اٹھانے کے لیے بھی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے مستقبل کی تعمیر ہو، یا آئین سازی... بیرونی تعلقات کا معاملہ ہو... یا نظامِ تعلیم، وہ ہمیشہ غیروں سے ٹیوشن پڑھ کر ہی قدم اٹھاتی ہیں۔ ان کا اپنا کوئی نصب العین، کوئی لائحہ عمل نہیں ہوتا۔ وہ عموماً غیروں کے مفادات کے تحفظ کی ایندھن بنی رہتی ہیں۔ اور اپنے اس "کارنامے" کو عظیم قربانی اور کارِ ثواب تصور کرتی ہیں۔ ان کے مستقبل کا ہر اہم فیصلہ اغیار قوموں کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ ا یسی قومیں دیگر قوموں پر اثر انداز ہونے کی بجائے ان سے متاثر ہوتی ہیں۔ ان میں اس قدر خود اعتمادی بھی نہیں ہوتی کہ وہ کسی کو اپنے کردار سے متاثر کر سکیں۔ اس تناظر میں اگر غور کر کے ہم تھوڑا سا اپنا، یا اپنوں کا جائزہ لیں، تو سب کچھ صاف صاف نظر آنے لگتا ہے۔تصویر بڑی صاف ہے بھی جان گئے آئینہ ان کو دکھایا تو بُرا مان گئے ایشیائی ممالک کی عموماً اور وطنِ عزیز کی خصوصاً صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔اگست1947ء کے بعد چاہیے تھا کہ ہم آزاد ہو جانے کے بعد حقیقتاً آزاد رہتے، ہم اپنے دستور و منشور میں اپنی مذہبی اور مشرقی روایات کو اختیار کرتے... اور ان کو انتہائی مضبوطی سے تھامے رکھتے... تو ہمسایہ اقوام یقیناً ہم سے متاثر ہوتیں۔ اور ان پر ہماری تہذیب و تمدن کا اثر ہوتا۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ جس دن سے ہم اپنا سب کچھ بھولے ہیں، اس دن سے ہمارا تشخص بھی دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ہم ایک آزاد قوم ہیں، تو معاشرتی معاملات میں یہ کاسہ لیسی کیوں ہے؟؟؟ انٹرنیشنل میٹنگز میں جاتے ہوئے لباس و پوشاک میں ہم اپنی قومی روایات کو لائقِ عمل اور قابلِ فخر سمجھنے کی بجائے انہیں باعثِ خفت کیوں سمجھتے ہیں؟؟؟ اغیار کے طور طریقوں میں عظمت اور ان کی ترقی کا سبب کیوں گردانتے ہیں؟؟؟ اگر ایک معزز انسان کو مانگے ہوئے کپڑے... مانگے ہوئے جوتے... مانگا ہوا گھر اور مانگی ہوئی گاڑی استعمال کرنا زیب نہیں دیتا، تو ایک معزز اور آزاد قوم کو مانگی ہوئی طرزِ معاشرت کیسے زیب دے سکتی ہے؟؟؟!!! ہم ہر قوم سے متاثر ہوئے ہیں۔ مگر آج تک کسی کو متاثر نہیں کر سکے... اور کوئی قوم ہم سے متاثر ہو بھی سکتی ہے.... جب ہم خود اپنی مذہبی شکل و صورت اور قومی لباس سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، تو وہ غیروں کے لیے اسوہ حسنہ کیسے بن سکتا ہے؟؟؟ قومی چیزیں جتنی بھی تھیں... یا مٹ چکی ہیں یا بے وقعت ہو چکی ہیں۔ لے دے کے یہی ایک قومی ترانہ باقی آن بچا ہے۔ اللہ حفاظت فرمائے کہیں یہ بھی غیروں کی نقالی کی بھینٹ نہ چڑھ جائے، ملبوسات اور مشروبات میں قومی مصنوعات کی بجائے درآمد شدہ اشیاء کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ہمارا اپنا کچھ بھی نہیں... ہم غیروں کی اشیاء پر پل رہے ہیں اور بڑھ رہے ہیں، آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو قوم اپنا کلچر اور ثقافت باقی نہیں رکھ سکی... کل وہ اپنا وجود کیسے برقرار رکھ سکے گی، اگر ہم اب بھی نہ جاگے تو عہدِ رفتہ کا ایک قصہ پارینہ بن جائیں گے، اور۔۔۔ہماری داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں
حیاتِ حسینی کی حسین جھلک!
✍️ مصنف: جناب طاہر محمود صاحب ہاشمی
🏷️ زمرہ: مقالات ومضامین
👁️ 76 ویوز
حیاتِ حسینی کی جھلک: ایک روشن کردارحضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بچپن میں تربیت کے لیے جو ماحول نصیب ہوا، وہ جمالِ مصطفیٰ ﷺ اور جلالِ مرتضوی کا حسین امتزاج تھا۔ آپ کی عظمتوں اور رفعتوں کا یہ عالم تھا کہ آپ کی والدہ سیدۃ النساء، والد سید الاولیاء اور نانا جان سید الانبیاء ﷺ تھے۔ جب آپ کی پیدائش ہوئی تو امام الانبیاء ﷺ نے بنفسِ نفیس دولت کدہ علوی پر تشریف لا کر آپ کو اپنے دستِ مبارک میں لیا اور تربیتِ حسینیت کا آغاز ہوا۔بچپن اور دربارِ رسالت کا ماحولمدینہ منورہ میں عام طور پر بچوں کو پیدائش کے بعد دربارِ رسالت میں لایا جاتا تھا، مگر ولادتِ حسینی کے وقت صاحبِ دربار ﷺ خود تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف پیار کیا بلکہ آپ ﷺ کا یہ عمل کہ آپ ﷺ نے خود گھٹی دی، اذان کہی اور نام رکھا، امام حسین رضی اللہ عنہ کی فضیلت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ وہ بچہ تھا جس کے شب و روز کا نظام یہ تھا کہ دن سید الابرار ﷺ کے پاس گزرتا تو رات حیدرِ کرار رضی اللہ عنہ کے پاس۔مسکنِ فاطمی میں کردار سازیمسکنِ فاطمی کی پرسکون چاندنی اور فقرِ حیدری کے خوددارانہ ماحول نے کردارِ حسینی کا وہ خاکہ مرتب کیا جس نے دنیا کو استغنائے درویشانہ کا درس دیا۔ اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے سیدِ شباب اہلِ جنت (جنت کے جوانوں کے سردار) کی دستارِ فضیلت حاصل کی۔آپ ﷺ کی محبت کا اظہار: آپ ﷺ کی اپنے نواسے سے محبت کا یہ عالم تھا کہ کبھی آپ ﷺ ان کے آرام کی خاطر سجدے کو طویل کر دیتے، تو کبھی خطبہ چھوڑ کر انہیں گود میں اٹھا لیتے۔ آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ "مجھ محمد ﷺ سے ان کی آہ و بکا برداشت نہیں ہوتی"، حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے مخاطب ہو کر آپ ﷺ کی بے پناہ شفقت کی عکاسی کرتا ہے۔امتِ مسلمہ کے لیے پیغامحیاتِ حسینی ایک ایسا تابناک باب ہے جس پر مکمل گفتگو کرنے کے لیے دفتر درکار ہیں۔ سیرتِ حسینی کے یہ روشن پہلو آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ واقعہِ کربلا کا درد انگیز پہلو ہمیں ایثار، قربانی اور حق پر ڈٹے رہنے کا درس دیتا ہے، جسے اپنانے کے لیے دل و ہمت کی ضرورت ہے۔پروردگارِ عالم امتِ مسلمہ کو کردارِ حسینی پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
یتیموں کا والی
✍️ مصنف: شفیق شاہین
🏷️ زمرہ: گوشئہ ادب
👁️ 16 ویوز
بیت جانے والے سہانے دن کیا سہانے دن تھے، زندگی میں بہار تھی، گھر کیا تھا ایک گلشن تھا جس کے کونے کونے میں الفتوں کی مہکاریں تھیں۔ کبھی ہم صحن میں اٹھکیلیاں کرتے، تو کبھی برآمدے میں اچھل کود۔ سارا دن اپنائیت کے حسیں احساس میں مگن، چاہتیں اور مٹھاس ہمارے گھر میں کھلونوں کی طرح موجود رہتے۔ محبت و پیار کی کوئی کمی نہ تھی۔ پھر اچانک وہ ہوا جس کا وہم و گمان بھی نہ تھا! میرے بابا جان ایک ٹریفک حادثے میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مجھے آج بھی زندگی کی وہ دل دوز دوپہر یاد ہے جب چچا جی کڑکتی دھوپ میں ایمبولنس پر بابا جان کی ڈیڈ باڈی لے کر پہنچے۔ جسم خون میں لت پت، متعدد جگہوں پر شدید چوٹیں اور ہڈیوں کے فریکچر۔ مجھ میں تو دیکھنے کی ہمت نہ رہی۔ جیسے تیسے اباجی کو سفرِ آخرت پر روانہ کر دیا گیا۔ پھر کیا تھا، زندگی تلخ ہو گئی، دنیا تاریک ہو گئی، دوستانے ختم ہو گئے اور جینے کی آرزو دم توڑ گئی۔ تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے یتیمی کا احساس اب وہ پہلے والی ناز برداریاں ختم ہو گئیں، سارے مان ٹوٹ گئے۔ مسکرانا تو اب میری زندگی کی ہسٹری میں نہ رہا۔ مجھے اب پتہ چلا کہ یتیمی کسے کہتے ہیں اور جسے یہ داغ لگ جاتا ہے اس کی حالت کیا ہوتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ وہ ایک زندہ لاش بن کر زندگی کے دن پورے کرتا ہے۔ گھر کے درودیوار افسردہ ہو گئے، ابا کا کمرہ اور بائیک دیکھنے کا یارا نہیں ہوتا۔ ان کے جانے سے زندگی میں جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ کبھی پر نہیں ہوگا۔ میں طبعاً ٹینشن لینے کا عادی تھا، اب تو مفلوج ہو کر رہ گیا ہوں۔ ان کے غم نے چھین لی ہیں مجھ سے میری شوخیاں اور دنیا سمجھ رہی ہے کہ سنجیدہ ہو گیا ہوں عید کا اداس منظر چند دنوں بعد عید آ گئی۔ جس عید کا پہلے انتظار کیا جاتا تھا، اب بھی وہی عید تھی مگر خوشیاں اور مسرتیں غائب تھیں۔ عید کی صبح گھر میں ایک مرجھایا ہوا سناٹا طاری تھا۔ میں نے پرانے دھلے ہوئے کپڑے پہنے اور عید گاہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں دوست نبیل ملا اور اپنی نئی گھڑی دکھا کر بولا: "شفیق بھائی! یہ میرے پاپا لائے ہیں۔" بس یہ سننا تھا کہ مجھے اپنے بابا جان یاد آ گئے۔ عید پر بازار سے کپڑے خریدنا، اچھے پکوان بنانا، اور جیب خرچ دینا... ایک ایک بات یاد آنے لگی۔ آنسوؤں کا طوفان امڈ آیا، پوری نماز روتے روتے ادا کی۔ زبان پر بار بار ایک شعر آ رہا تھا: اس قدر روٹھے ہو ہم سے، اس قدر کترائے تم عید پر بھی میرے ابو اپنے گھر نہ آئے تم ایک تسلی اور امید میں مسجد گیا، دو رکعت نفل پڑھے اور دربارِ الہی میں عرض کیا: "اے ربِ دو جہاں! ہم یتیم بھی تو تیرے کچھ لگتے ہیں۔ تو میرے ٹوٹے دل کو سہارا اور صبر عطا فرما۔" اچانک دل میں خیال آیا کہ میرے نبی مکرم ﷺ بھی تو یتیم تھے، بلکہ پیدائش سے قبل ہی یتیم ہو گئے تھے۔ بس دل کو ایک عجیب طمانیت حاصل ہو گئی۔ اب جب بھی والد صاحب کی یاد ستاتی ہے تو دل کو تسلی دیتا ہوں: "شفیق! تم خوش نصیب ہو کہ تمہارے نبی ﷺ بھی یتیم تھے اور یتیموں کی سرپرستی کرنے والے تھے۔" اگر روزِ محشر یتیموں کی الگ صف بنائی گئی، تو ہمارے نبی ﷺ یقیناً ہماری صف میں ہوں گے۔ ہمارے لیے تو یہی رفاقت ہی کافی ہے۔
محرم الحرام ۔۔۔اور بدعات رسومات
✍️ مصنف: مولانا محمد رفیق صاحب
🏷️ زمرہ: مقالات ومضامین
👁️ 25 ویوز
اسلام: ایک مکمل ضابطہ حیاتاسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ زندگی کا کوئی بھی گوشہ ایسا نہیں جس کے متعلق اسلام میں دستور العمل موجود نہ ہو۔ ایک کامل مومن بننے کے لیے ضروری ہے کہ زندگی کا ہر کام حدودِ شریعت میں رہ کر انجام دیا جائے۔ ارشادِ نبوی ﷺ ہے:"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہشات میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ ہو جائیں۔"خوشی اور غمی کا شرعی معیارزندگی میں دو اہم موڑ ایسے آتے ہیں جہاں ہم عموماً حدودِ شرع بھول جاتے ہیں: (1) خوشی، (2) غمی۔ آنحضرت ﷺ نے امت کے لیے ان دونوں مواقع پر بہترین نمونے چھوڑے ہیں۔ حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت تاریخِ اسلام کا ایک اندوہناک واقعہ ہے، لیکن اس پر صبر کرنے اور سبق حاصل کرنے کی بجائے مروجہ طریقے سے سینہ کوبی، شمشیر زنی اور باقاعدہ غم منانا تعلیماتِ اسلام کے خلاف ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی ولادت کے موقع پر خود ساختہ طریقے سے خوشی منانا بھی مزاجِ اسلام سے ہم آہنگ نہیں۔ہمارا دوہرا معیارہمارے ہاں ایک طرفہ تماشہ یہ ہے کہ جس ہستی کی ولادت کی خوشی منائی جاتی ہے، ان کی وفات پر غم کا نام و نشان تک نہیں ہوتا، اور جن کی شہادت کا غم منایا جاتا ہے، ان کی ولادت کے دن کا ہمیں علم تک نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ جو قوم پیغمبرانہ طریقوں کو فراموش کر دیتی ہے، وہ ایسی ہی بے بنیاد رسومات میں الجھ کر رہ جاتی ہے۔محرم الحرام سے جڑی خرافاتمحرم الحرام میں کچھ ایسی رسومات رائج کر لی گئی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں:باقاعدہ قبرستان جا کر قبروں کی لپائی کرنا۔قبروں پر درختوں کی شاخیں ڈالنا۔قبروں کے ارد گرد دال اور چاول بکھیرنا اور اسے ضروری سمجھنا۔اس مہینے میں شادی اور نکاح کو منحوس تصور کرنا۔یہ سب خرافات ہیں جن سے اجتناب ایمان کا حصہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ خوشی اور غم کو صرف اور صرف تعلیماتِ نبوی ﷺ کے مطابق گزاریں، تاکہ یہ رسمیں عبادت بن جائیں۔
دعوت نامہ
✍️ مصنف: شفیق شاہین
🏷️ زمرہ: گوشئہ ادب
👁️ 24 ویوز
چند دن قبل بذریعہ ٹی سی ایس (T. C.S مجھے ایک ڈاک موصول ہوئی۔ پہلے تومیں حیران ہوا کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی خط و کتابت کا سلسلہ ..؟؟؟ اور وہ بھی میرے ساتھ ...جسے فون سننے کیلئے بھی ایک سیکرٹری درکار ہے ... میں نے بیگم سے ڈاک لانے اور کھولنے کا کہا تو وہ بولیں کھانا تیار ہے اور میز پر لگ چکا ہے۔ آپ پہلے کھانا کھالیں پھر ڈاک پڑھ لیجئے گا۔ ڈاک کا لفافہ کافی صحت مند اور شکم سیر ہے آپ نے ڈاک پڑھنی شروع کی تو کھانا ٹھنڈا ہو جائے گا .. میں فورا کرسی پر جا بیٹھا بیگم نے میرے ہاتھ دھلائے اور میں کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا مگر دل میں وہی خیال ڈاک کس نے بھیجی؟ اور کیوں بھیجی؟ کم از کم میرے دوستوں میں تو کوئی بھی ڈاک نہیں بھیج سکتا ۔ انہیں تو جب بھی کوئی کام ہوتا ہے تو وہ کال کر لیتے ہیں یا مسیج کر دیتے ہیں. انہیں تو پرانے طرز کی خط و کتابت سے کوئی دلچسپی بھی نہیں . انہیں سوچوں میں گم صم میں کھانا کھاتا رہا کھانے سے فراغت پر بیگم نے ہاتھ دھلائے اور خط لا کر میرے سامنے رکھ دیا ..... خط واقعی بھاری بھرکم تھا... میں نے جب اسے کھولا ... تو اس میں تین الگ الگ پیپر نکلے... ایک پوسٹر : جس میں ملک کے ایک ممتاز دینے ادارے کی سالانہ تقریب (جسے ختم بخاری شریف کہتے ہیں ) کا اندراج تھا ... ایک دعوت نامہ: جس میں مجھے خصوصی طور پر انوائٹ کیا گیا تھا اور ایک ہینڈ رائٹنگ تحریر، میں نے جب وہ تحریر پڑھی تو میری آنکھیں بے قابو ہوگئیں .... چھم چھم مینہ برسنے لگا ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔ لیجئے ! آپ بھی اس تحریر کے کچھ مندرجات پڑھئے ... یقینا آپ کے آنسو بھی آپ کی پلکوں کے بند توڑ ڈالیں گے اور اس سیلاب میں آپ کے رخسار ڈوب جائیں گے، شفیق شاہین صاحب ....! میں ایک مدرسے کا طالب علم ہوں ، اس سال درس نظامی کے آخری سال دورہ حدیث شریف میں زیر تعلیم ہوں آپ کی تحریروں کو بہت شوق سے پڑھتا ہوں، آپ کو دیکھا بھی نہیں مگر آپ سے عشق کی حد تک لگاؤ ہے ، چند دنوں بعد ہمارے ادارے کی سالانہ تقریب بعنوان ختم بخاری شریف منعقد ہو رہی ہے ، اساتذہ کا حکم ہے کہ ہر طالب علم اپنے والد صاحب یا اپنے سر پرست کو اس تقریب میں ضرور مدعو کرے اور ہمیں اطلاع کرے کہ میرے کتنے اور کون کون مہمان آرہے ہیں، تاکہ ہم ان کی میزبانی کا انتظام کریں ، میرے والد صاحب چند سال قبل ایک حادثے میں اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں ، بڑے بھائی بیرون ملک مقیم ہیں جن سے کوئی رابطہ بھی نہیں ہے، بقیہ رشتہ دار میری اس تعلیم سے بھی نالاں اور الرجک ہیں چہ جائیکہ وہ اس میں شرکت کریں، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے سر پرست کی حیثیت سے اس تقریب میں شرکت کریں آپ کی شرکت سے جہاں میری ڈھارس بندھے گی ، وہاں آپ کو نہ جانے اس کا کتنا ثواب ہوگا ۔ میں کبھی بھی آپ کو اتنی زحمت نہ دیتا لیکن کیا کروں جس دن یہ تقریب ہوتی ہے، بڑا عجیب منظر ہوتا ہے ، ادھر ختم بخاری شریف ہوا اور فضلاء کرام کے سروں پر دستار فضیلت سجائی گئی ، ادھر فضلاء کے رشتہ دار :والد ۔چچا۔ ماموں۔ کزن ..... پھولوں کے ہار لیکر منتظر کھڑے ہوتے ہیں، فارغ التحصیل طالب علم کو گلے ملتے ہیں ، مبارک باد دیتے ہیں ، پھولوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں ، جس طالب علم کا کوئی سر پرست نہ پہنچا بس .. اس کی کیفیت عجیب ہوتی ہے وہ بیچارہ جیتے جی ہی مر جاتا ہے وہ اندر سے ٹوٹ کر بھر جاتا ہے۔ یہ چہکتا مہکتا دن اس کیلئے مزید افسردگی کا باعث بن جاتا ہے . سب طلباء اپنوں میں مگن اور وہ کسی کمرے میں گوشہ نشین ہو کر اداسی کی چکی میں پستا رہتا ہے۔ مجھے امید ہے آپ میری دعوت پر مصروفیات کے باوجود وقت نکال کر ضرور تشریف لائیں گے اور مجھے شکریہ کا موقع دیں گے ، آنے کی اطلاع درج ذیل نمبر پر دے دیجئے گا، خیر اندیش : عثمان رشید ولد عبد الرشید (مرحوم) بس پھر کیا تھا میں نے مصروفیات کو کلوز کیا ... اور مقررہ دن اس ادارے میں پہنچا اس طالب علم سے ملاقات کی ... یقینا اس کا چہرہ مجھے مل کر چمک اٹھا۔ اس کا خون سیروں بڑھ گیا۔ میں نے بھی دوران تقریب بحمد اللہ اس مہمان رسول ﷺ کو سر پرست کی کمی کا احساس نہ ہونے دیا ... اور پھر میری واپسی کے وقت وہ مجھے صرف اتنا بولا : شاہین صاحب ..... ! میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، بس اللہ تعالیٰ آپ کو اس حوصلہ افزائی کی بہترین جزاء عطا فرمائیں۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ ... میری پوری زندگی کے سارے اعمال میں بھی شاید وہ وزن نہ ہو جو اس طالب علم کی حوصلہ افزائی میں تھا اور میں پر امید ہوں کہ میرا یہ عمل دربار الہی میں ان شاء اللہ ضرور مقبول ہو کر رہیگا ۔ اور اسی عمل کے صدقے میری غلطیوں سے اللہ صرف نظر فرمائیں گے۔ ان شاء الله
آج ایمان ہے...مگریقین نہیں!
✍️ مصنف: مولانا محمد احمد گھاروی
🏷️ زمرہ: اصلاح معاشرہ
👁️ 27 ویوز
کالم نگار عطاء الحق قاسمی لکھتے ہیں میں ایک خوبصورت نو جوان کو جانتا ہوں، اس کا نام ریاض ہے، یہ باریش نوجوان کاروں کی ائیر کنڈیشنگ کا کام کرتا ہے ، ریاض بظاہر زیادہ پڑھا لکھا شخص نہیں ہے لیکن اس کے اندر کی خوبصورتی اس سے خوبصورت بات کہلواتی ہے سڑک سے گزرتے ہوئے جب اس کی ورکشاپ کے بورڈ پر میری نظر پڑتی ہے تو میں کچھ دیر کیلئے اس کے پاس رک جاتا ہوں۔ ایک دن میں نے ریاض سے پوچھا کہ تم چاہوتو اپنے ہم پیشہ لوگوں کی طرح گاہکوں کی کھال اتار سکتے ہو لیکن میں نے دیکھا کہ تم کئی دفعہ ایک آدھ تار کو ہلا جلا کر گاڑیوں کا ائیر کنڈیشن ٹھیک کر رہے ہو اور اس کا کچھ معاوضہ بھی نہیں لیتے ہو، حالانکہ اس کام سے ناواقف گاہک کو تم کچھ بھی بتا کر اور چار گھنٹے بعد گاڑی واپس لے جانے کا کہہ کر اس سے ہزاروں روپے اینٹھ سکتے ہو، کیا تم اتنے رئیس ہوگئے ہو کہ اب تمہیں مال و دولت کی ضرورت ہی نہیں رہی؟ میری یہ بات سن کرریاض ہنسا اور کہنے لگا، قاسمی صاحب .... ہمارے ملک کی کئی کروڑ عوام آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، میں ان لوگوں میں سے ہوں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں ایمان اور یقین میں بہت فرق ہے ، مجھے اگر یقین ہے کہ قبر کا عذاب کوئی چیز ہے، مجھے اگر یقین ہے کہ بے ایمانی، رشوت ستانی ، حسد، بغض، کینہ قتل ، دل آزاری، تخریب کاری ، بہتان تراشی یہ بہت بڑے گناہ ہیں اور ان کا مرتکب دوزخ میں جائے گا تو مجھے بتائیں کہ میں یہ گناہ کیسے کر سکتا ہوں ، مجھ سے تو سردیوں میں بھی زیادہ دیر تک آگ کے قریب نہیں بیٹھا جاتا ، میں جہنم کا الاؤ کیسے برداشت کروں گا ؟ کاش ہمارا مسلم معاشرہ ایمان کے بعد کبھی یقین کی اس منزل تک بھی پہنچ جائے جہاں ریاض جیسا خوبصورت نوجوان ہے، کاش کاش.....
🌹اربابِ اختیار سے "ڈھمٹی" کا چبھتا ہوا سوال🌹
✍️ مصنف: امتیاز احمد رفرف
🏷️ زمرہ: گوشئہ ادب
👁️ 63 ویوز
سردیوں کی ایک دھند آلود صبح تھی۔ میں حسبِ معمول گورنمنٹ پرائمری سکول واہی قادر ڈِینہ کے صحن میں داخل ہوا۔ شبنم سے بھیگی نیم کی پتیاں آسمان کی طرف یوں تک رہی تھیں گویا سورج کی پہلی کرن کی منتظر ہوں۔ اسمبلی کا وقت ہوا تو بچے ترتیب کے ساتھ قطاروں میں کھڑے ہوگئے۔ ہلکی پھلکی ورزش ہوئی۔ تلاوتِ قرآنِ حکیم، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ، بچوں کی دعا (لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری)، قومی ترانہ، اور پھر چند اخلاقی ہدایات کے بعد بچے بوجھل بستوں کے ساتھ اپنی اپنی جماعتوں کی طرف چل دیئے۔ میں بھی جماعتِ اول کی طرف چل دیا۔ وہی ننھے چہرے، وہی شوخیاں، وہی معصوم نظریں اور وہی شوقِ علم! اس روز بچوں کو سبق میں انگریزی مہینے یعنی January, February, March… پڑھائے جانے تھے۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور اپنی عادت کے مطابق جذبۂ خیرسگالی کے تحت نصاب سے ہٹ کر ایک "جرمِ محبت" کا ارتکاب کیا، اور انگریزی مہینوں کے ساتھ ساتھ اسلامی مہینے یعنی محرم، صفر، ربیع الاول بھی یاد کروانے لگا۔ چونکہ اسلامی مہینوں کے نام کتاب میں نہیں تھے، اس لیے میں نے وہ بچوں کو کاپیوں پر لکھوائے اور کہا۔ > "بیٹا، یہ انگریزی مہینے ہیں یعنی جنوری، فروری وغیرہ اور انھیں شمسی مہینے بھی کہتے ہیں۔ اور یہ اسلامی مہینے ہیں یعنی محرم، صفر وغیرہ اور انھیں قمری مہینے بھی کہتے ہیں۔ انھیں خوب اچھی طرح یاد کر لو"۔ اسی کلاس میں ایک فربہ اندام، بھولا بھالا مگر نہایت ذہین بچہ تھا جس کا نام تو محمد احمد سلیم تھا لیکن سکول میں سب اُسے پیار سے "ڈھمٹی" کہہ کر بلاتے تھے۔ اُس دن جیسے ہی میں نے مہینوں کا فرق واضح کیا اور کہا۔ > "انگریزی مہینے کتاب سے یاد کریں اور اسلامی مہینے کاپی پر لکھیں پھر یاد کریں"۔ تو ڈھمٹی نے اچانک سرائیکی میں سوال داغ دیا — اور ایسا سوال کہ جیسے فضا ایک لمحے کو ساکت ہو گئی ہو۔ > "استاجی! آپاں مسلمان نئیں؟" (استاد جی! کیا ہم مسلمان نہیں؟) سوال بظاہر سادہ تھا، لیکن لہجہ ایسا معصوم اور گہرا کہ کلیجہ منہ کو آنے لگا۔ میں نے خود کو سنبھالا اور مسکرا کر کہا۔ > "بالکل بیٹا، آپاں مسلمان ہیں، الحمد للّٰہ!" لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوئی تھی۔ ڈھمٹی کے ننھے دماغ میں ایک اور سوال جنم لے چکا تھا اور یہ دوسرا سوال تو گویا پہلے سوال کو بھی نگل گیا: > "جے آپاں مسلمان ہیں، تاں ول اپڑیں کتاب وچ اسلامی مہینے کیوں کینی؟" (اگر ہم مسلمان ہیں تو پھر ہماری کتاب میں اسلامی مہینے کیوں نہیں؟) یہ سوال نہ صرف میرے وجود کو چیرتا چلا گیا بلکہ ایک پورے نظامِ تعلیم، ایک پوری فکری غلامی، اور تہذیبی شکست پر مہرِ تصدیق ثبت کر گیا۔ میں خاموش ہو گیا۔ ڈھمٹی بولتا رہا اور میرے اندر ایک شور سا مچتا رہا۔ کیا ہم واقعی اپنی نسلوں کو ان کی اصل سے جوڑ رہے ہیں؟ کیا ہماری درسی کتابوں میں اُن کی پہچان ہے؟ کیا ہمارے نصاب میں اُن کی تہذیب، اُن کی تاریخ، اور اُن کے شعور کا عکس موجود ہے؟ ایسا لگتا ہے جیسے: 🍒🍒🍒🍒🍒🍒🍒 کتابوں کی تجارت عام ہے تعلیم بِکتی ہے ادب نایاب ہے بے نام ہے تعظیم بِکتی ہے 🍒🍒🍒🍒🍒🍒🍒 سکولوں کو سمجھتے ہیں کمائی کا ذریعہ یہ ضروری کالجوں میں دام ہے تفہیم بِکتی ہے 🍒🍒🍒🍒🍒🍒🍒 یہ اے بی سی رٹائی جارہی ہے ذوقِ کامل سے مگر رسوا الف بے لام ہے اور میم بِکتی ہے 🍒🍒🍒🍒🍒🍒🍒 ہمارے لیڈروں کو ہے پروٹوکول کی چاہت یہاں پر کارکن بدنام ہے تنظیم بِکتی ہے 🍒🍒🍒🍒🍒🍒🍒 ہمارے نصاب میں انگریزی زبان کو اس قدر مسلط کر دیا گیا ہے کہ ہر کتاب گویا غلامی کی زنجیروں میں جکڑی دکھائی دیتی ہے۔ اردو، جو ہماری قومی زبان ہے، اسے ایک طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ انگریزی، جو محض ایک مضمون کے طور پر کافی تھی، اب ایک زبانِ تسلط کے طور پر پڑھائی جا رہی ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے بچے اپنی مادری زبان میں سوچتے ہیں، اردو میں بولتے ہیں، مگر جب اردو لکھنے کا وقت آتا ہے تو اسے بھی انگریزی حروفِ تہجی سے لکھتے ہیں۔ ہماری تہذیبی شکست کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ ہم "السلام علیکم" بھی لکھتے ہیں تو "slam" یا "aslam" اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔ شاید ہمیں یہ بھی اب عجیب لگتا ہے کہ "کتاب" کو کتاب ہی کہا جائے۔ ہم اُسے "بُک" کہتے ہیں۔ جماعت کو "کلاس"، استاد کو "ٹیچر"، میز کو "ٹیبل"، کرسی کو "چیئر"، بستے کو "بیگ"، قلم کو "پین" اور تختہ سیاہ کو "بورڈ" کہنا فیشن بن چکا ہے۔ ہم نے صرف الفاظ ہی نہیں، ان کی روح، ان کی شناخت، اور ان کی تہذیب بھی گروی رکھ دی ہے۔ ایسے ہی کسی لمحے میں مجھے انور مسعود صاحب کا وہ جملہ یاد آتا ہے جو میں نے ایک ویڈیو میں سنا تھا اور آج بھی دل پر نقش ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ > "کاش اللہ تعالیٰ مجھے وہ وقت دکھائے کہ جب ایک گورا، یعنی انگریز، اردو میں لکھی ہوئی درخواست میرے پاس لائے اور کہے کہ مہربانی فرما کر مجھے اس کا انگریزی میں ترجمہ کر دیں تاکہ میں سمجھ سکوں کہ اس میں کیا لکھا ہے تو میری ستر سال کی تھکان دور ہو جائے گی۔" کاش وہ دن آ جائے جب ہماری نسلوں کو انگریزی کے سامنے جھکنا نہ پڑے، بلکہ اُن کی زبان ایسی معیاری ہو کہ گورے بھی فخر سے اس کا ترجمہ کروائیں۔ ڈھمٹی، ایک چھ سات سال کا بچہ، وہ سوال کر گیا جو آج تک ہمارے ایوانوں، کمیٹیوں اور پالیسی سازوں کو نہیں سوجھ سکا۔ ڈھمٹی کی وہ معصوم مگر چبھتی ہوئی پکار آج بھی میرے دل ودماغ میں سوال بن کر گونجتی ہے۔ "استاجی ! اپاں مسلمان نئیں؟" اور میں تڑپ کر سوچتا ہوں ۔۔۔ کیا واقعی ؟ وہ بچہ گیا، مگر ایک سوال چھوڑ گیا۔ ایک ایسا سوال جو ہر استاد سے، ہر کاتبِ نصاب سے اور ہر اربابِ اختیار سے پکار پکار کر کہتا ہے۔ > "آپاں مسلمان نئیں؟"
کرپشن...ایک معاشرتی ناسور
✍️ مصنف: مدیر اعلیٰ کے قلم سے...
🏷️ زمرہ: اداریہ
👁️ 85 ویوز
کرپشن ایک رذالت ہے …کرپشن ایک گھٹیا پن ہے… کرپشن ایک ایسا خطرناک مرض ہے جس کا انجام ہمیشہ بھیانک ہی ہوتا ہے …جس قوم کو کرپشن کی عادت ہو جائے… اس قوم کا مستقبل انتہائی تاریک ہو جاتا ہے، اور اس کے مقدر میں… فقط محرومی ہی ہوا کرتی ہے، بنیادی طور پر لوٹ مار… چوری… اور رشوت جیسے تمام جرائم ہی… قابل ترک ہیں لیکن کرپشن… چونکہ اجتماعی حقوق کی لوٹ مار اور چوری کو کہتے ہیں… اس لیے یہ زیادہ ہی …قابل مذمت ہے ،کرپشن کا ایک کربناک اور بھیانک پہلو… وہ ہے جسے پروردگار عالم نے قرآن کی صورت آل عمران پارہ نمبر 4 میں بیان کیا ہے وَمَنْ یَغْلُلْ یَاتِ بِمَا غَلَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (آل عمران پ4) ترجمہ: اور جو کوئی خیانت کرے گا ,وہ قیامت کے دن وہ چیز لے کر ائے گا جو اس نے خیانت کر کے لی ہوگی، اس آیت کی تفسیر میں حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ تعالی نے بڑی دل نشین گفتگو فرمائی ہے لیجیے… انہی کے الفاظ میں ملاحظہ ہو… "اس لیے غلو کی سزا بھی عام چوریوں سے زیادہ سخت ہے کہ میدان محشر میں جو مال اس نے چرایا وہ اس کی گردن پر لدا ہوا ہوگا، اللہ بچائے …میدان محشر کی یہ رسوائی ایسی ہوگی کہ بعض روایات میں ہے کہ جن کے ساتھ یہ معاملہ ہوگا… وہ تمنا کریں گے کہ ہمیں جہنم میں بھیج دیا جائے مگر اس رسوائی سے بچ جائیں، اسی طرح حکومت کے سرکاری خزانوں( بیت المال) کا حکم ہے… کیونکہ اس میں پورے ملک کے باشندوں کا حق ہوتا ہے …جو اس سے چوری کرے اس نے سب کی چوری کی… آج کل دنیا میں سب سے زیادہ چوری اور خیانت… انہی اموال میں ہو رہی ہے… لوگ اس کے انجام ِبد اور وبال ِعظیم سے غافل ہیں" (ملخص از معارف القرآن) دنیا کی ترقی پذیر قوموں پر اگرطائرانہ نظر ڈالی جائے… تو ان کے ارتقا اور بلندی کا راز صرف اور صرف… امانت اور دیانت ہے، وہ ذاتی مفادات کو ہمیشہ …ملکی اور قومی مفادات پر قربان کرتے ہیں… جذبہ حب الوطنی گویا ان کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے …ملی اور اجتماعی مقاصد پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتے …بلکہ ملک کی سلامتی اور استحکام پر سب کچھ نچھاور کر دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسی قوموں کی بھی کمی نہیں ہے… جو دولت اور پیسے کو ہی …اپنا سب کچھ سمجھتی ہیں… اور اس کو حاصل کرنے کے لیے… ہر وہ طریقہ اختیار کر لیتی ہیں جو ان کی سوچ میں زیادہ آمدنی کا باعث ہو …ان کے نزدیک یہ بحث بالکل فضول ہے کہ پیسہ کمانے کا کونسا طریقہ جائز اور کون سا ناجائز… بس وہ کثرت کی حرص میں تمام دینی مذہبی اور اخلاقی اقدار کو… پامال کر جاتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ… وہ اسے اپنی ہوشیاری اور عقلمندی گردانتے ہوئے لوگوں سے اپنے اس کمال پر داد کے امیدوار رہتے ہیں۔ افسوس ہے کہ اس وقت وطنِ عزیز پاکستان بھی کچھ ایسی ہی صورت حال… سے دوچار ہے …جس محکمے اور ادارے کا رخ کرو… بس کیاکہئے سچ تو یہ ہے کہ… انسان کی طبیعت درست ہو جاتی ہے، ہمارے دفاتر کا کلچر اتنا …ناگفتہ بہ صورت اختیار کر چکا ہے کہ "ا لامان والظ گر "کرپٹ عناصر ایسی دیدہ دلیری اور دھڑلے کے ساتھ کرپشن کرتے ہیں… کہ جیسے یہ جرم ہی نہیں بلکہ ان محبان وطن کا پیدائشی اور بنیادی حق ہے… لگتا ہے ان من چلوں کی پیدائش ہی شاید اسی مقصد کے لیے ہوئی ہے …یہ دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہیں اور عوام ہو… یا قومی خزانے… وہ صرف ہمیشہ لٹتے ہی رہیں۔ ملکی اداروں میں …کرپشن کے جراثیم اس قدر سرایت کر چکے ہیں …کہ پورا ملک ایک مریض بن کر رہ گیا ہے… جس کا بروقت اور مناسب علاج اشد ضروری ہے… بصورت دیگر" خاکم بدہن "پورے ملک کی معیشت کا مستقبل …ص رف تباہی کے اور کچھ بھی نظر نہیں آتا، کرپشن کے خلاف شاید… کبھی بھی سنجیدگی سے کوئی منظم اور مربوط قدم نہیں اٹھایا گیا اور اگر اس سلسلے میں کوئی کوشش ہوئی بھی ہے تو وہ صرف …انتقامی سیاست کے تحت… یا پھر… لسانی اور علاقائی تعصب …کی بنیاد پر، یہی وجہ ہے کہ ایسی کوئی کوشش آج تک بارآور ثابت نہیں ہو سکی۔ افسران بالا جو مسیحائی کا فریضہ سر انجام دے سکتے ہیں… ان تک گڈ گورننس( سب اچھا) کی رپورٹ پہنچا کر… انہیں مطمئن کر دیا جاتا ہے اور وہ حقیقت حال سے یا تو… بے خبر ہیں اور یا پھر… تجاہلِ عارفانہ سے کام چلایا جاتا ہے ،یقینا کرپشن اس وقت… ایک عفریت بن کر پاکستان کے اعصاب پر سوار ہے جس کا بروقت اور مناسب علاج… بہت ضروری ہے تاکہ وطنِ عزیز کے باسیوں کو ایک مرتبہ پھر اس گلشن میں امن و محبت اور خوشحالی کی بہاریں دیکھنا نصیب ہوں۔ آمین ثم آمین
باتیں سچی کرگیا...!
✍️ مصنف: شفیق شاہین
🏷️ زمرہ: گوشئہ ادب
👁️ 137 ویوز
مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے، جون کا مہینہ تھا، غضب کی گرمی تھی، سورج کی حدت اور موسم کی شدت نے ماحول کو قیامت خیز بنا رکھا تھا، دوپہر کو چلنے والی لو جسم جھلسائے جا رہی تھی، سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں دبکے ہوئے تھے اور یا پھر سایہ دار جگہوں پر پناہ گزین… ضرورت اور مجبوری کے تحت ہی کوئی گھر سے باہر نکلنے کی ہمت کرتا، اتنی سخت گرمی میں باہر نکلنا اور وہ بھی مجھ جیسے عافیت کوش انسان کے لیے تو تقریبا ناممکن ہی تھا مگرکرم نوازی واپڈا والوں کی۔۔۔ جنہوں نے گھر میں رہنا بھی عذاب بنا چھوڑا تھا، طویل دورانیہ پر مشتمل لوڈ شیڈنگ نے جینا دوبھرکر رکھا تھا، زندگی مصیبت بن چکی تھی سارا دن "لائٹ آگئی" اور"لائٹ چلی گئی" کہ ترانے وردِزبان بنے رہتے، گرمی اور جھنجھلاہٹ میں دن کا اکثر حصہ واپڈا والوں کے" ذکر خیر" اور یا پھر ان کو" ایصال ثواب "کرنے میں ہی گزر جاتا تھا،گرمیوں میں یہ تلخ ترین تجربہ آپ بھی کئی بار کر چکے ہوں گے جب عین دوپہر کو بجلی چلی جائے تو گھر کے کمروں اور جیل کی بیرکوں میں کوئی خاص فرق نہیں رہتا، کچھ اس طرح کی کیفیت سے میں بھی دو چار تھا ، دل میں نیت کر لی کہ آج رشتہ داروں سے ملنے چلا جاتا ہوں، جس سے ایک طرف وقت گزاری بھی ہو جائے گی تو دوسری طرف صلہ رحمی کا اجر بھی مل جائیگا،، سفر بھی اگر چہ "قطعۃ من العذاب" ہے تا ہم اس حبس سے تو نجات مل ہی جائے گی ،جو لوڈ شیٹنگ کے وقت ہر گھر کا مقدر بن جاتا ہے، چنانچہ میں نے امی سے اجازت چاہی… مگر جواب میں وہی مشفقانہ انکار ،گرمی اور تپش کا عذر …مجھے اور تو کچھ نہ سوجھا… بس اپنے ذوق شاعری کی تسکین کے لیے کندھے اچکا کر جواب میں اقبال کا شعر )تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ( سنا دیا ؎ ارادے جن کے پختہ ہوں ، نظر جن کی خدا پر ہو تلاطم خیز گرمی سے ، وہ گھبرایا نہیں کرتے امی یہ سن کر مسکرانے لگی اور اجازت ملنے کے چانسز بڑھ گئے، تھوڑی بہت رد و قداح کے بعد جلد واپسی کا کہہ کر امی میں اجازت دے دی، اور میں گھر سے روانہ ہوا باہر نکلتے ہی سورج کی تمازت کا احساس ہوا ،دھوپ کی شدت اپنا لوہا منوانے لگی، مجھے تو کچھ یوں محسوس ہوا کہ سورج اپنی مقررہ جگہ سے ذرا نیچے ہٹ آیا ہے بہرحال خدا خدا کر کے میں منزل مقصود پہ پہنچا، سب سے پہلے میں اپنی خالہ جان ہی سے ملتا تھا ،جس کی بنیادی وجہ خالہ کا خلوص ہی تھا، ان کاپر محبت لہجہ دیکھ کر تو میں انہیں اپنی "دوسری ماں "سمجھتا تھا ،اور وہ بھی مجھے اپنے بیٹوں سے کوئی کم حیثیت نہیں دیتی تھیں، خالہ کے دروازے پر پہنچ کر میں نے بیل بجائی، تو پو چھا گیا کون…؟ میرے تعارف کروانے پر خالہ نے خود ا کر دروازہ کھولا، اور پھر مجھے اپنے سینے سے لگا لیا اور بولیں… میرے پیارے بیٹے… اتنی گرمی میں اپ نے تکلیف اٹھائی؟ دیکھو کیسے اگ برس رہی ہے …صبح صبح ا جاتے اور یا پھر شام کا انتظار کر لیتے…تو چلو خیر …اب آپ ذرا پسینہ خشک کر کے نہا لو اتنی دیر میں میں اپ کے لیے شربت تیار کرتی ہوں اور پھر بیٹھ کر حال احوال بانٹتے ہیں، میں اچھا کہہ کر واش روم چلا گیا اور پھر نہا کر کمرے میں پہنچا تو خالہ ٹھنڈے شربت کا جگ ٹیبل پر رکھے میرا انتظار کر رہی تھیں… فورا یہ ہی ایک گلاس شربت کا مجھے پیش کر دیا …اس کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا، اس دوران خاندانی حالات پر تبادلہ خیال ہوتا رہا اور پھر کہنے لگی اپ یقینا تھکے ہوئے ہوں گے، لہذا آپ آرام کریں میں آپ کے لیے کھانا تیار کرتی ہوں میں بھی "ٹھیک ہے" کہہ کر بیڈ پر دراز ہو گیا اور اگلے ہی لمحے نے نیند کی پرسکون اغوش میں کھو گیا، تھوڑی ہی دیر گزری ہوگی کہ صحن سے خالہ کی گرجدار آواز میرے کانوں سے ٹکرائی جس سے میں بیدار ہو گیا اور سوچنے لگا کہ خالہ تو اونچا بولنے کی بھی عادی نہیں مگر یہ اتنا سخت لہجہ اور وہ بھی میری خالہ کا…؟ ضرور کوئی گڑبڑ ہے اور پھر خالہ کی آواز ایک بار پھر ابھر ی… اب میں فورا اٹھ کر صحن کی جانب لپکا … وہاں پہنچ کر کیا دیکھتا ہوں کہ تقریبا بیس سالہ ایک نوجوان لڑکا ڈرائنگ روم کی چھت پر کھڑا ہے اور کھمبے پر لگی تاروں کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف ہے اور خالہ اپنی ہاتھوں پر ہاتھ کا چھجہ بنا کر کہہ رہی ہے آخر تم کس سے پوچھ کر اوپر چڑھے ہو …؟نیچے اترو فورا …اور لڑکا منمنارہا ہے… خالہ …!میں کیبل والوں کا ملازم ہوں، آپ کی کمپلینٹ آئی تھی کہ کیبل کنکشن میں خرابی ہو گئی ہے ،اور اسے درست کرنے کے لیے اوپر چڑھاہوں ، ٹھیک کر کے اتر جاؤں گا، تو تم نے پردے کی آواز کیوں نہیں لگائی ؟ میں نے فورا کہا لڑکا بولا آواز تو لگائی تھی مگر آپ شاید اندر بیٹھے تھے سن نہیں سکے …تمہیں شرم نہیں آتی ایک تو بلا اجازت اوپر چڑھےہو… اور بے پردگی کرا کے ہمیں بے وقوف بنا رہے ہو، میں تمہارا علاج کرا لیتی ہوں، خالہ بدستور غصے میں تھیں، لڑکے نے ہاتھ سے پیشانی کا پسینہ صاف کیا اور پھر بولا اور بولتا ہی چلا گیا… گھر میں تو اپ نے کیبل لگوا رکھی ہے… جس پر روزانہ سینکڑوں لوگ آپ دیکھتے ہیں ، اس سے بے پردگی نہیں ہوتی اور مجھ پر نظر پڑ جانے سے بے پردگی ہو گئی ہے، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ کون سا پردہ ہے جو ٹی وی اور اخبارات پر مردوں کو دیکھنے سے تو نہیں ٹوٹتا مگر گھر کی چھت پر کسی مردوں کو دیکھنے سے ٹوٹ جاتا ہے…؟ اب آپ تقریر ختم کرو اور یہ بتاؤ کہ آپ شرافت سے نیچے اترتے ہو یا میں اوپر آؤں ؟میں تڑا خ کر بولا …میرے بدلتے تیور دیکھ کر لڑکا تو فورا اتر گیا مگر اس کی کڑوی کسیلی مگر" مدلل گفتگو " سن کر خالہ تو سر پٹا کر رہ گئیں، ذرا دیر پہلے بڑی تیز تیز بولنے والی خالہ کا حال یہ تھا کہ" کاٹو تو بدن میں لہو نہیں "فورا چپ چاپ کمرے میں چلی گئی ان کا اترا اترا چہرہ بتا رہا تھا کہ دل پر گہرا اثر ہوا ہے، میں بھی پیچھے پیچھے کمرےمیں جا پہنچا خالہ نے بڑی افسرادگی سے کہا کہ "کتنے جری ہیں آج کے لڑکے، باتیں بنانے سے ذرا نہیں چوکتے" میں نے بھی کہہ دیا کہ بات تو اس کی صحیح تھی، آیا اگرچہ وہ غلط طریقے سے تھا مگر باتیں سچی کر گیا ہے… ہاں میں بھی یہی سوچ رہی ہوں کہ اب کیبل کنکشن ختم کروا دینا چاہیے… بہت خوب بہت خوب… اس سے تو مجھے اتنی خوشی ہوگی کہ میں بیان بھی نہیں کر سکتا …اور ویسے بھی میرا تجربہ ہے کہ جس گھر میں ٹی وی اور کیبل آئی وہ گھر نماز تلاوت سے محروم ہی ہوا ہے اور پھر اولاد پر اس کے منفی اثرات الگ ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ماں باپ ٹی وی اور کیبل لگوا کر فوت ہو گئے ،اب گھر میں عیاشیاں اولاد کر رہی ہوتی ہے ادھر عذاب میں ماں باپ پکڑے ہوئے ہوتے ہیں… بچوں اور بچیواں کو خبر تک نہیں ہوتی کہ ہماری بد اعمالیوں کے سبب ہمارے ماں باپ اتنے سخت عذاب میں مبتلا ہیں… الامان والحفیظ… خالہ نے میری تائید کی اور آج شام کے بل کنکشن ختم کروانے کا وعدہ کر لیا … فللہ الحمد پروردگار عالم سے التجا ہے کہ وہ تمام مسلم گھرانوں کو گانے بجانے کے تمام حالات سے محفوظ رکھیں اور ان کی جگہ نماز و تلاوت، ذکر و اذکار سے اپنے گھروں کو منور کرنے کی توفیق عطا فرمائیں …آمین یا رب العالمین
